حکام نے جمعرات کو بتایا کہ لاہور کے علاقے انارکلی کی پان منڈی میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 26 زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل پولیس کے ترجمان نے کہا تھا کہ دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم بعد میں لاہور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کے ترجمان مبشر حسین نے دو ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
پولیس کے ترجمان رانا عارف نے بھیبتایا ڈان ڈاٹ کام کوکہ دھماکا ایک موٹرسائیکل میں نصب بم کی وجہ سے ہوا تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے لاہور کے مشہور انارکلی بازار کے قریب کئی دکانوں کو نقصان پہنچا۔ ٹی وی فوٹیج میں ایک پرہجوم بازار میں جلتی ہوئی موٹرسائیکلیں دکھائی دے رہی تھیں، جب زخمی مدد کے لیے پکار رہے تھے۔
جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز عابد خان نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں ایک گڑھا رہ گیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بم کی وجہ سے ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری تکنیکی ٹیم شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ ہم ان کے تجزیوں کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔
ادھر لاہور کے ڈپٹی کمشنر عمر شیر چٹھہ نے بتایا کہ دھماکا سرکلر روڈ کے قریب انارکلی بازار کی آخری گلی میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا جو علاقے میں ایک بینک کے باہر کھڑی تھی۔
انہوں نے واقعے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی، انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین فرانزک سائنس ایجنسی، سیف سٹی اتھارٹی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کرے گا۔
ڈی سی نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے جب کہ زخمی میو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ایک الگ بیان میں عثمان بزدار نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا مقصد امن و امان کی فضا کو سبوتاژ کرنا ہے۔ دھماکے کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔
واقعے کے کچھ دیر بعد لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے سول ڈیفنس کے افسر کو علاقے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ تعینات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ علاقے کی مکمل اور مکمل سویپ کی جائے۔
سیاستدانوں نے واقعے کی مذمت کی ہے
وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے حکام پر زور دیا ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔

0 Comments